صفحات

پیر، 8 اگست، 2016

سرکاری ملازمین کی سیلری کیوں کاٹی جا رہی


کیا آپ سرکاری ملازم ہیں؟
تو پھر یقیناََ آپ کی بھی سیلری کاٹی جا رہی ہے۔
اگر آپ اس سے واقف نہیں ہیں تو آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کے کیسے آپ کی محنت کی کمائی سے حکومت آرام سے پیسے کاٹ رہی ہے اور آپ کو خبر تک نہیں۔

 الاونس ملتا ہے۔ SSB  اگر بات کنٹریکٹ ملازمین کی کی جائے تو انہیں پنشن نہیں ملتی بلکہ انہیں پنشن کی مد میں 
اسکو سوشل سیکورٹی بینفٹ بھی کہتے ہیں۔ اور یہ عموماََ 30٪ بیسک سیلری کا ہوتا ہے۔اور یہ بات باقائد ہ طور پر کنٹریکٹ پر لکھی جاتی ہے۔
  بھی خود بخود SSBحکومت نے 2015 میں سکیل ریوائز کر دئے اور تمام سکیل کی بیسک پےبڑھ گئی ۔تو اس حساب سے
بڑھ جانا چاہے۔ لیکن حیران کن طور پر ایسا نہیں ہوا۔

آئیے سکیل 14 کو مثال کے طور پر دیکھتے ہیں

بیسک پے 2015 سے پہلے
8000
SSB 30%= 2400
بیسک پے 2015 میں
10340
SSB 30%= 3102
بیسک پے 2016میں
12720
SSB 30% = 3816
Deduction= 3816-2400=1416
جو لوگ کام کر رہے ہیں تو اس طرح ان کی سیلری سے 1416 روپے ہر ماہ کاٹ لیے جاتے ہیں اوران کو BPS-14
خبر تک نہیں ہوتی۔

اس سلسلے میں حکومت نے ایک الگ سے نوٹیفیکشن بھی جاری کیا ہے کہ جو بیسک سیلری اس کی کم از کم ہے اس پر 30٪الاونس دیا جائے۔آپ خود پڑھے اس نوٹیفیکیشن کو
کنٹریکٹ پر واضح طور پر لکھنے اور پھر الگ سے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے باوجود سرکاری ملازمین کو پوی سیلری کیوں نہیں مل رہی؟

مکمل تحریر >>

اتوار، 3 جولائی، 2016

اساتذہ کی اپ گریڈیشن

آ ج کل پھر ایک دفعہ اپ گریڈیشن کی خبریں عام ہو رہی ہیں۔ اساتذہ ناجانے کب سے اس امید میں ہیں کہ سکیل بڑھے اور ان کی گزر بسر قدرے بہتر ہو سکے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اپ گریڈیشن ہوگی بھی یا نہیں؟

یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں بلکہ کوئی بیسویں دفعہ کی خبر ہےکہ سکیل اپ گریڈ کئے جا رہے ہیں۔ اخبارات تو آئے دن اس طرح کی خبر شائع کرتے رہتے ہیں۔ مستزاذ یہ کہ اساتذہ کی نمائندہ تنظیمیوں نے بھی اساتذہ کو کئی بار بے وقوف بنا یا ہے۔ ایک دفعہ تو یہ بھی خبرپڑھنے کو ملی کہ سی ایم نے سمری پر سائن بھی کر دئیے ۔لیکن ہر دفعہ کی طرح اساتذہ کے ہاتھ اپ گریڈیشن کا بٹیر نہ آیا۔ 

آئیےاپ گریڈیشن کی خبریں دیکھتے ہیں۔





اسی طرح کی کئی ایک خبریں عموماََ اخبارات اور ٹی وی کی زینت بنتی رہتی ہیں مگر ایسا کبھی نہیں ہو سکا۔

اب کی بار جو پر امید ہیں وہ کہ رہے ہیں کہ سپیشل سیکریڑی نے خبر دی تو ٹھیک ہی ہو گی۔اگر ایسی کوئی بات ہے تو سی ایم صاحب خود کیوں نہیں بتا دیتے۔اور کوئی بات ہے یا نہیں یہ ضرور ہے کہ جب بھی حکومت دھرنوں سے انڈر پریشر آتی ہے تو کوئی نا کوئی ایسی خبر دے دیتی ہے۔

حال ہی میں اگر کلریکل سٹاف کی اپ گریڈیشن کو دیکھا جائے توایک جونئیر کلرک 11کے لئے بی اے پاس بندہ جبکہ ایم فل اساتذہ کو 9سکیل پر بھرتی کیا جاتا ہے۔ کیا کوئی قوم ایسی بھی ہو گی جو اپنے اساتذہ کے ساتھ ایسا سلو ک کرے اور پھر یہ امید رکھے کہ یہ قوم ترقی کرے گی؟

 آئے اب کی بار جو خبر ہے اس پر تھوڑی گفتگو ہو جائے۔خبر اس بار کی ایسے ہے

پنجاب بھر کے محکمہ تعلیم،ہیلتھ ، جنگلات، سوشل ویلفیئر،سول ڈیفینس،لیبر ، بلدیات،زراعت سمیت تمام محکموں کے 30 لاکھ ملازمین کی اپ گریڈیشن

اور امسال اساتذہ کی اپ گریڈیشن یہ کہ کر نہ کی گئی کہ تین لاکھ اساتذہ کی تنخواہ بڑھانے کے لیے حکومتی خزانہ نا کافی ہے اس لئے ایسا کرنا ممکن نہیں۔

تو ذرا خود غور کر یں کہ کیا تیس لاکھ ملازمین کی اپ گریڈیشن ممکن ہے؟
مکمل تحریر >>

کیااساتذہ کو نوجوان قیادت کی ضروت ہے؟؟؟

 کہنے کو تو پنجاب میں اساتذہ کی بہت سی نمائیند ہ تنظیمیں ہیں جو اساتذہ کے حقوق کےلئے سر گرداں ہیں۔یہ تنظیمیں کون کون سی ہیں اور کیا کرتی ہیں۔آئیےپہلے ان کا انتہائی مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔

Punjab Teacher Union. پنجاب ٹیچر یونین
 بی پی ایس 9 سے 19 کی نمائندگی کا دعوی کرتی ہے۔ 1937میں معرض وجود میں آئی۔ ہر ڈسٹرکٹ اور تحصیل میں سے ووٹنگ کے بعداساتذہ کو نمائندگی دی جاتی ہے۔

Punjab Educators Association  پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن
یہ پنجاب کے ایجوکیٹرز کی نمائندگی کی تو بات کرتی ہے لیکن ان کے اعلی عہدوں پر کوئی بھی ایجوکیڑ فائز نہیں ہے۔ یہ ایسوسی ایشن اساتذہ کی بہتری کے لیئے کام کرنے کا دعوی کرتی ہے۔ یہ لٹریسی ریٹ بڑھانے اور اساتذہ کی صلاحتوں کو بڑھانے کے لیئے کام کرنے کا بھی دعوی کرتی ہے۔

Primary Elementary Teachers Associationپرائمری ایلیمنٹری ٹیچرزاسوسی ایشن
یہ بھی دیگر تنظیموں کی طرح اساتذہ کے حقوق کے حصول کی بات کرتی ہے۔

اور دیگر بھی کچھ ہونین ہیں جو اس وقت کام کر رہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ان تنظیموں کے ہونے کے باوجود بھی اساتذہ کو اتنےمسائل کیوں در پیش ہیں۔

نجکاری کی ہی بات لے لیجئے۔۔۔۔۔۔تما م نمائندہ جماعتوں نے مل کر کچھ دن پہلے دھرنے کی بات کی۔ اساتذہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے دھرنے میں پہنچ گئے۔تما م یونین نے خبر دی کہ اب نجکاری نہیں ہو گی ۔سب لوگ خوشی خوشی واپس لوٹے تو معلوم ہوا کہ نجکاری کا عمل پہلے کی طرح تیزی سے جاری ہے۔یہ ٹوپی اپ پتہ نہیں یونین والوں نے پہنائی یا پھر حکومت نے۔

سکیل اپ گریڈیشن کی بات کی جانے تو اس کا حا ل بھی تقریباََ نجکاری جیسا ہی ہے۔ اگر فیڈرل میں سکیل اپ گریڈیشن ہو سکتی ہے تو پنجاب میں کیوں نہیں۔ مختلف خبریں اس زمر میں گردش کر رہیں ۔کچھ اخبارات نے تو یہ بھی کہ ڈالا کہ چیف منسٹر نے سمری پر سائن بھی کر دئے۔ بہرحال اساتذہ کے مطالبات اگر یونین نہیں پہنجائیں گیں تو ان کافائدہ؟

عجب بات ہے کہ چھٹیوں میں اساتذہ کاکنوئنس الاونس تک کاٹ لیا جاتا ہے۔ اساتذہ پر نجانے کب سے یہ ظلم ڈھایا جا رہا ہے اور کوئی پرسان حا ل نہیں۔

ایجوکیٹرٓز کو پینشن کی مد میں ہر ماہ٪ 30ایس ایس بی الاوئنس بیسک پےپردیا جاتا ہے۔یہ بات کنٹریکٹ پر باقائیدہ طور پر لکھی ہوئی ہے۔ لیکن 2015 میں سکیل ریوائز ہونے کے بعد بسک پے بڑی ہے مگر ایس ایس بی الاونس وہی پرانا۔ کیوں کوئی آواز بلند نہیں کرتا؟

جو بھی نیا ٹیچر بھر تی ہوتا ہے اور کچھ پرانے اساتذہ کو گاہے بگاے اپنی اسناد کی تصدیق کا کہا جاتا ہے۔اور حیران کن بات یہ ہے کہ تصدیق کا خرچ استاد کے ذمے ہوتا ہے۔تصدیق ضرور کروائیں ۔لیکن جب ایک شخص آپ کو اپنی اصل اسناد تک جمع کروا رہا ہےتو تصدیق کا خرچہ اسی پر ہی کیوں؟ دوسرا مسئلہ اس زمر میں نئے پھر تی ہونے والے اساتذہ کو پیش آتا ہے۔کلیریکل سٹاف ان سے اصل اسنا د تک جمع کر لیتے ہیں تصدیق کے بہانے اور تب تک تنخواہ جاری ہونے نہیں دیتے جب تک وہ استاد انہیں "مٹھائی" نہیں کھلا دیتا۔

تمام ڈسٹرکٹ میں ڈی ای او اور ای ڈی او آفسز میں بیٹھے کلرکوں کا روایہ اساتذہ کے ساتھ انتہائی تحقیر آمیز ہوتاہے۔ استاد اگر وہاں کسی کام کے سلسلے میں چلا جائے تو وہ انتہائی برے انداز میں پیش آتے ہیں۔ اور بدتمیزی کرنا تو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ لیکن اساتذ ہ کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

افسران گرائنڈ ریلٹی کو دیکنھے کو بالکل تیا نہیں۔
بس اساتذہ کو نتائج کا زمہ دار ٹھرا کر سزا دئیے جاتے ہیں۔ اکژسکولوں میں ایک کمرہ جماعت میں ایک پنکھا ہوتا ہے۔ اور 40 کے قریب طلباٰٰٰء بھلا اتنی گرمی میں وہاں پڑھائی ممکن؟کچھ طلبا کو گھر کے لیے مزدوری بھی کرتے ہیں کیوں کہ اور گھر میں کمانے والا نہیں۔اس لیے کبھی سکول آتے ہیں اور کبھی نہیں۔ حکومت ان کی غربت کو مٹانے کے لیئے کیا کر رہی ہے؟

اسی طرح اور بھی کئی مسائل ہیں جن میں اساتذہ کی ترقی ، سکولوں میں سہو لتوں کا فقدان، اور دیگر کئی ایک مسائل ہیں۔ جو موجودہ تنظیمیں حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہیں۔


اگراساتذہ کے ان تمام مسائل کا حل مجودہ تنظیمیں نہیں پیش کر سکتی تو اس سلسلے میں ینگ لوگوں کو یہ کوشش کرنا ہو
گی۔ اپنے حقوق کے حصول کے لیئے نوجوانوں میں زیادہ جوش و جزبہ پایا جاتا ہے۔ اگر نوجوان لوگ مل کر ایک تنظیم بنائیں تو یہ زیادہ بہتر انداز میں اپنے حقوق کی جنگ لڑ سکتی ہے۔ اگر آپ متفق ہیں تو ضرور آگاہ کریں تاکہ اس ضمن میں کوشش کی جا سکے۔


مکمل تحریر >>

محکمہ تعلیم کی نجکاری۔۔۔۔۔۔ وجہ اور نتائج


حکومت پنجاب نے ایسےتمام سکولوں کو پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن کے نتائج ناقص ہیں یا ان میں تعداد کم ہے۔
حکومت پنجاب کا موقف ہے کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کام نہیں کرتے اور بچوں کہ نہیں پڑھاتے جس سے نتا ئج ناقص آتے ہیں ۔اس لیے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے سکولوں کو پرائیوٹ کر دیا جا ئے۔

آئیے ایک نظر نتائج پر ڈالتے ہیں۔
 2015
پنجم جماعت کے کامیاب طلباءوطالبات۔۔۔۔۔۔۔۔٪۔79
ہشتم جماعت کے کامیاب طلباءوطا لبات۔۔۔۔۔۔۔79.11

2014
پنجم جماعت کے کامیاب طلباء طا لبات۔۔۔۔۔55.95
ہشتم جماعت کے کامیاب طلباءوطا لبات76.83

یہ نتائج اتنے بھی برے نہیں کہ جس کو بنیاد بنا کر محکمہ تعلیم کو نجی ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔

ااس کے بر عکس اگر حکومت کی اپنی کارکردگی جائزہ لیا جا ئے تو اس کے حالات نتہائی تشویش ناک ہیں۔
.ذرا اک نظر خود ڈالیئے اور فیصلہ کیجئے

آئیے دیکھتے ہیں ک نجکاری کا عمل کس نے اور کب شروع کیا۔

کیا آپ جانئے ہیں کہ پاکستان کے اثاثے بیچنے کی بنیاد کس نے رکھی؟


جی ہاں! یہ کوئی اور نہیں ہمارے وزیراظم نواز شریف نے بنیا د رکھی۔ یقین نہ آئے تو خود پڑھ لیجئے۔



wikipdia

سوچنے کی بات تو یہ ہےکہ کہیں یہ نجکاری اپنے خاص لوگوں کو نوازنے کےلیے تو نہیں کی جارہی؟

پچھلےتقریباََ 12 سال سے جناب شہباز شریف صوبہ پنجاب کی خدمت کر رہے ہیں۔ نا تو پنجاب کے اساتذہ کو کوئی مرعات دی گئی بلکہ اساتذہ کو ان کے حقوق بھی نہیں دئے گئے۔
ائئے ایک نظر صرف 3 سالہ خیپر پختوں پر ڈالتے ہیں۔


96% انرولمنٹ میں اضافہ
Reference

تو آپ کے خیال میں اساتذہ اس کے ذمے دار ہیں یا حکومت؟


مکمل تحریر >>

محکمہ تعلیم کی نجکاری اور عدالت


آج کال ایک خبر گردش کر رہی ہےکہ لاہور ہائی کورٹ کے جج نے محکمہ تعلیم کی نجکاری کو قابل تحسین عمل قراردیا
ہے۔اور جج نے یہ جواز پیش کیا ہے کہ اساتذہ  تین تین ماہ چھٹیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

یہ خبر پڑھنے کے بعد یقین مانیں کہ دل خون کے آنسو رویا۔ کتنی ہی عجیب بات ہے کہ اساتذہ کو اس جرم کی پاداشت میں سزا سنائی جا رہی ہے جو ان سے سر زرد تک نہیں ہوا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جج کا کام قانون کی روشنی میں فیصلے کرنا ہوتاہے نا کہ اپنی ذاتی رائے کی بنا پر سزا سنا دینا ہوتا ہے۔

کیا تین ماہ کں چھٹیاں اتنا بڑا جرم ہے کی جس کی پاداشت میں پورا محکمہ تعلیم کی نجکاری کر دی جائے؟
کیا یہ بات آئین پاکستان میں ہے کہ اگر تین ما ہ کی چھٹیاں کی جائیں تو محکمہ تعلیم کی نجکاری کر دی جائے؟
کیا اساتذہ کرام خود چھٹیاں کر تے ہیں اور باقی محکمہ تعلیم کام کرتا رہتا ہے؟

!محترم جج
یہ آپ کی ذاتی رائے توہو سکتی ہے مگر اس کا قانون سے لینا دینا کچھ نہیں ۔بلکہ آپ اس بات کے کہنے سے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔

جب بھی کوئی شخص ، جس کا ذہنی توازن درست ہو،کوئی دلیل پیش کرتا ہے تو یقیناََ وہ اس دلیل کے سیاق وسباق کو پوری طرح سمجھتا ہے اور اس کے مستقبل کے نتائج کو بھی پیشِ نظر رکھتا ہے۔آئیئے "3 ماہ چھٹیوں " کا سیاق و سیاق اور اثرات دیکھتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ 3 ماہ کی چھٹیاں اساتذہ کو نہیں بلکہ بچوں کو کی جاتی ہیں۔اور وہ بھی اس لیے کی جاتی ہیں کیوں کہ موسم کی شدت بچوں سے برداشت نہیں ہوپاتی۔ امسال کی ہی مثال لیجئے کہ اس مرتبہ 8-10چھٹیاں تعلیمی کیلنڈر سے پہلے اس لیے کر دی گئی تھی کہ اکثر سکولوں میی گرمی کی بے رحم شدت سے بچے بے حوش ہونے لگے تھے۔دوسری بات یہ ہے کہ اساتذہ کی تو ان چھٹیوں میں اکشر سکولوں میں ڈیوٹی لگائی جاتی ہےاور اساتذہ شیڈول کے مطابق سکول میی حاضر  بھی ہوتے ہیں باوجود اس کے کہ ان کاکنوینس الونس بھی کاٹ لیا جاتا ہے۔بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے۔

مزید برآں کیا پرائیوٹ سکولوں کو چھٹیاں نہیں ہوتیں۔سرکاری سکولوں میں الگ سے ہوتی ہیں؟
اورنجکاری کے بعد بھی اگر چھٹیاں ہونی ہیں تو براہِ کرم یہ بتا دیں کہ پرائیوٹ اداروں کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے جس سے بہتری ممکن ہے۔؟
یا کہیں پرائیوٹ کرنے کا مقصد ان غریب بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا ہے جن کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں؟
کوئی ایسا شخص ہی ایسی بات کرے گا جو یا تو گراونڈ ریلٹی سے با خبر نہیں یا پھر کہیں نا کہیں وہ پرائیویٹ مافیا سے ملا ہوا ہے۔


آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کو ئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنےنظام تعلیم کو بہتر نہ کر لے۔جر منی کی یہ مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں پر سارے کے سارےتعلیی ادارے جرمن حکومت کے انڈر ہیں اور وہاں پر کسی قسم کی کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ضروت اس امر کی ہے کہ اساتذہ اکٹھے ہوں کر مطالبہ کریں تاکہ ان کی حق تلفی نہ ہو۔



مکمل تحریر >>

comment