صفحات

اتوار، 3 جولائی، 2016

کیااساتذہ کو نوجوان قیادت کی ضروت ہے؟؟؟

 کہنے کو تو پنجاب میں اساتذہ کی بہت سی نمائیند ہ تنظیمیں ہیں جو اساتذہ کے حقوق کےلئے سر گرداں ہیں۔یہ تنظیمیں کون کون سی ہیں اور کیا کرتی ہیں۔آئیےپہلے ان کا انتہائی مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔

Punjab Teacher Union. پنجاب ٹیچر یونین
 بی پی ایس 9 سے 19 کی نمائندگی کا دعوی کرتی ہے۔ 1937میں معرض وجود میں آئی۔ ہر ڈسٹرکٹ اور تحصیل میں سے ووٹنگ کے بعداساتذہ کو نمائندگی دی جاتی ہے۔

Punjab Educators Association  پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن
یہ پنجاب کے ایجوکیٹرز کی نمائندگی کی تو بات کرتی ہے لیکن ان کے اعلی عہدوں پر کوئی بھی ایجوکیڑ فائز نہیں ہے۔ یہ ایسوسی ایشن اساتذہ کی بہتری کے لیئے کام کرنے کا دعوی کرتی ہے۔ یہ لٹریسی ریٹ بڑھانے اور اساتذہ کی صلاحتوں کو بڑھانے کے لیئے کام کرنے کا بھی دعوی کرتی ہے۔

Primary Elementary Teachers Associationپرائمری ایلیمنٹری ٹیچرزاسوسی ایشن
یہ بھی دیگر تنظیموں کی طرح اساتذہ کے حقوق کے حصول کی بات کرتی ہے۔

اور دیگر بھی کچھ ہونین ہیں جو اس وقت کام کر رہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ان تنظیموں کے ہونے کے باوجود بھی اساتذہ کو اتنےمسائل کیوں در پیش ہیں۔

نجکاری کی ہی بات لے لیجئے۔۔۔۔۔۔تما م نمائندہ جماعتوں نے مل کر کچھ دن پہلے دھرنے کی بات کی۔ اساتذہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے دھرنے میں پہنچ گئے۔تما م یونین نے خبر دی کہ اب نجکاری نہیں ہو گی ۔سب لوگ خوشی خوشی واپس لوٹے تو معلوم ہوا کہ نجکاری کا عمل پہلے کی طرح تیزی سے جاری ہے۔یہ ٹوپی اپ پتہ نہیں یونین والوں نے پہنائی یا پھر حکومت نے۔

سکیل اپ گریڈیشن کی بات کی جانے تو اس کا حا ل بھی تقریباََ نجکاری جیسا ہی ہے۔ اگر فیڈرل میں سکیل اپ گریڈیشن ہو سکتی ہے تو پنجاب میں کیوں نہیں۔ مختلف خبریں اس زمر میں گردش کر رہیں ۔کچھ اخبارات نے تو یہ بھی کہ ڈالا کہ چیف منسٹر نے سمری پر سائن بھی کر دئے۔ بہرحال اساتذہ کے مطالبات اگر یونین نہیں پہنجائیں گیں تو ان کافائدہ؟

عجب بات ہے کہ چھٹیوں میں اساتذہ کاکنوئنس الاونس تک کاٹ لیا جاتا ہے۔ اساتذہ پر نجانے کب سے یہ ظلم ڈھایا جا رہا ہے اور کوئی پرسان حا ل نہیں۔

ایجوکیٹرٓز کو پینشن کی مد میں ہر ماہ٪ 30ایس ایس بی الاوئنس بیسک پےپردیا جاتا ہے۔یہ بات کنٹریکٹ پر باقائیدہ طور پر لکھی ہوئی ہے۔ لیکن 2015 میں سکیل ریوائز ہونے کے بعد بسک پے بڑی ہے مگر ایس ایس بی الاونس وہی پرانا۔ کیوں کوئی آواز بلند نہیں کرتا؟

جو بھی نیا ٹیچر بھر تی ہوتا ہے اور کچھ پرانے اساتذہ کو گاہے بگاے اپنی اسناد کی تصدیق کا کہا جاتا ہے۔اور حیران کن بات یہ ہے کہ تصدیق کا خرچ استاد کے ذمے ہوتا ہے۔تصدیق ضرور کروائیں ۔لیکن جب ایک شخص آپ کو اپنی اصل اسناد تک جمع کروا رہا ہےتو تصدیق کا خرچہ اسی پر ہی کیوں؟ دوسرا مسئلہ اس زمر میں نئے پھر تی ہونے والے اساتذہ کو پیش آتا ہے۔کلیریکل سٹاف ان سے اصل اسنا د تک جمع کر لیتے ہیں تصدیق کے بہانے اور تب تک تنخواہ جاری ہونے نہیں دیتے جب تک وہ استاد انہیں "مٹھائی" نہیں کھلا دیتا۔

تمام ڈسٹرکٹ میں ڈی ای او اور ای ڈی او آفسز میں بیٹھے کلرکوں کا روایہ اساتذہ کے ساتھ انتہائی تحقیر آمیز ہوتاہے۔ استاد اگر وہاں کسی کام کے سلسلے میں چلا جائے تو وہ انتہائی برے انداز میں پیش آتے ہیں۔ اور بدتمیزی کرنا تو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ لیکن اساتذ ہ کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

افسران گرائنڈ ریلٹی کو دیکنھے کو بالکل تیا نہیں۔
بس اساتذہ کو نتائج کا زمہ دار ٹھرا کر سزا دئیے جاتے ہیں۔ اکژسکولوں میں ایک کمرہ جماعت میں ایک پنکھا ہوتا ہے۔ اور 40 کے قریب طلباٰٰٰء بھلا اتنی گرمی میں وہاں پڑھائی ممکن؟کچھ طلبا کو گھر کے لیے مزدوری بھی کرتے ہیں کیوں کہ اور گھر میں کمانے والا نہیں۔اس لیے کبھی سکول آتے ہیں اور کبھی نہیں۔ حکومت ان کی غربت کو مٹانے کے لیئے کیا کر رہی ہے؟

اسی طرح اور بھی کئی مسائل ہیں جن میں اساتذہ کی ترقی ، سکولوں میں سہو لتوں کا فقدان، اور دیگر کئی ایک مسائل ہیں۔ جو موجودہ تنظیمیں حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہیں۔


اگراساتذہ کے ان تمام مسائل کا حل مجودہ تنظیمیں نہیں پیش کر سکتی تو اس سلسلے میں ینگ لوگوں کو یہ کوشش کرنا ہو
گی۔ اپنے حقوق کے حصول کے لیئے نوجوانوں میں زیادہ جوش و جزبہ پایا جاتا ہے۔ اگر نوجوان لوگ مل کر ایک تنظیم بنائیں تو یہ زیادہ بہتر انداز میں اپنے حقوق کی جنگ لڑ سکتی ہے۔ اگر آپ متفق ہیں تو ضرور آگاہ کریں تاکہ اس ضمن میں کوشش کی جا سکے۔


0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


comment