﷽
آج کال ایک خبر گردش کر رہی ہےکہ لاہور ہائی کورٹ کے جج نے محکمہ تعلیم کی نجکاری کو قابل تحسین عمل قراردیا
ہے۔اور جج نے یہ جواز پیش کیا ہے کہ اساتذہ تین تین ماہ چھٹیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
یہ خبر پڑھنے کے بعد یقین مانیں کہ دل خون کے آنسو رویا۔ کتنی ہی عجیب بات ہے کہ اساتذہ کو اس جرم کی پاداشت میں سزا سنائی جا رہی ہے جو ان سے سر زرد تک نہیں ہوا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جج کا کام قانون کی روشنی میں فیصلے کرنا ہوتاہے نا کہ اپنی ذاتی رائے کی بنا پر سزا سنا دینا ہوتا ہے۔
کیا تین ماہ کں چھٹیاں اتنا بڑا جرم ہے کی جس کی پاداشت میں پورا محکمہ تعلیم کی نجکاری کر دی جائے؟
کیا یہ بات آئین پاکستان میں ہے کہ اگر تین ما ہ کی چھٹیاں کی جائیں تو محکمہ تعلیم کی نجکاری کر دی جائے؟
کیا اساتذہ کرام خود چھٹیاں کر تے ہیں اور باقی محکمہ تعلیم کام کرتا رہتا ہے؟
!محترم جج
یہ آپ کی ذاتی رائے توہو سکتی ہے مگر اس کا قانون سے لینا دینا کچھ نہیں ۔بلکہ آپ اس بات کے کہنے سے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔
جب بھی کوئی شخص ، جس کا ذہنی توازن درست ہو،کوئی دلیل پیش کرتا ہے تو یقیناََ وہ اس دلیل کے سیاق وسباق کو پوری طرح سمجھتا ہے اور اس کے مستقبل کے نتائج کو بھی پیشِ نظر رکھتا ہے۔آئیئے "3 ماہ چھٹیوں " کا سیاق و سیاق اور اثرات دیکھتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ 3 ماہ کی چھٹیاں اساتذہ کو نہیں بلکہ بچوں کو کی جاتی ہیں۔اور وہ بھی اس لیے کی جاتی ہیں کیوں کہ موسم کی شدت بچوں سے برداشت نہیں ہوپاتی۔ امسال کی ہی مثال لیجئے کہ اس مرتبہ 8-10چھٹیاں تعلیمی کیلنڈر سے پہلے اس لیے کر دی گئی تھی کہ اکثر سکولوں میی گرمی کی بے رحم شدت سے بچے بے حوش ہونے لگے تھے۔دوسری بات یہ ہے کہ اساتذہ کی تو ان چھٹیوں میں اکشر سکولوں میں ڈیوٹی لگائی جاتی ہےاور اساتذہ شیڈول کے مطابق سکول میی حاضر بھی ہوتے ہیں باوجود اس کے کہ ان کاکنوینس الونس بھی کاٹ لیا جاتا ہے۔بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے۔
مزید برآں کیا پرائیوٹ سکولوں کو چھٹیاں نہیں ہوتیں۔سرکاری سکولوں میں الگ سے ہوتی ہیں؟
اورنجکاری کے بعد بھی اگر چھٹیاں ہونی ہیں تو براہِ کرم یہ بتا دیں کہ پرائیوٹ اداروں کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے جس سے بہتری ممکن ہے۔؟
یا کہیں پرائیوٹ کرنے کا مقصد ان غریب بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا ہے جن کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں؟
کوئی ایسا شخص ہی ایسی بات کرے گا جو یا تو گراونڈ ریلٹی سے با خبر نہیں یا پھر کہیں نا کہیں وہ پرائیویٹ مافیا سے ملا ہوا ہے۔
آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کو ئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنےنظام تعلیم کو بہتر نہ کر لے۔جر منی کی یہ مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں پر سارے کے سارےتعلیی ادارے جرمن حکومت کے انڈر ہیں اور وہاں پر کسی قسم کی کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ضروت اس امر کی ہے کہ اساتذہ اکٹھے ہوں کر مطالبہ کریں تاکہ ان کی حق تلفی نہ ہو۔
کیا تین ماہ کں چھٹیاں اتنا بڑا جرم ہے کی جس کی پاداشت میں پورا محکمہ تعلیم کی نجکاری کر دی جائے؟
کیا یہ بات آئین پاکستان میں ہے کہ اگر تین ما ہ کی چھٹیاں کی جائیں تو محکمہ تعلیم کی نجکاری کر دی جائے؟
کیا اساتذہ کرام خود چھٹیاں کر تے ہیں اور باقی محکمہ تعلیم کام کرتا رہتا ہے؟
!محترم جج
یہ آپ کی ذاتی رائے توہو سکتی ہے مگر اس کا قانون سے لینا دینا کچھ نہیں ۔بلکہ آپ اس بات کے کہنے سے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔
جب بھی کوئی شخص ، جس کا ذہنی توازن درست ہو،کوئی دلیل پیش کرتا ہے تو یقیناََ وہ اس دلیل کے سیاق وسباق کو پوری طرح سمجھتا ہے اور اس کے مستقبل کے نتائج کو بھی پیشِ نظر رکھتا ہے۔آئیئے "3 ماہ چھٹیوں " کا سیاق و سیاق اور اثرات دیکھتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ 3 ماہ کی چھٹیاں اساتذہ کو نہیں بلکہ بچوں کو کی جاتی ہیں۔اور وہ بھی اس لیے کی جاتی ہیں کیوں کہ موسم کی شدت بچوں سے برداشت نہیں ہوپاتی۔ امسال کی ہی مثال لیجئے کہ اس مرتبہ 8-10چھٹیاں تعلیمی کیلنڈر سے پہلے اس لیے کر دی گئی تھی کہ اکثر سکولوں میی گرمی کی بے رحم شدت سے بچے بے حوش ہونے لگے تھے۔دوسری بات یہ ہے کہ اساتذہ کی تو ان چھٹیوں میں اکشر سکولوں میں ڈیوٹی لگائی جاتی ہےاور اساتذہ شیڈول کے مطابق سکول میی حاضر بھی ہوتے ہیں باوجود اس کے کہ ان کاکنوینس الونس بھی کاٹ لیا جاتا ہے۔بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے۔
مزید برآں کیا پرائیوٹ سکولوں کو چھٹیاں نہیں ہوتیں۔سرکاری سکولوں میں الگ سے ہوتی ہیں؟
اورنجکاری کے بعد بھی اگر چھٹیاں ہونی ہیں تو براہِ کرم یہ بتا دیں کہ پرائیوٹ اداروں کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے جس سے بہتری ممکن ہے۔؟
یا کہیں پرائیوٹ کرنے کا مقصد ان غریب بچوں کو تعلیم سے محروم کرنا ہے جن کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں؟
کوئی ایسا شخص ہی ایسی بات کرے گا جو یا تو گراونڈ ریلٹی سے با خبر نہیں یا پھر کہیں نا کہیں وہ پرائیویٹ مافیا سے ملا ہوا ہے۔
آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کو ئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنےنظام تعلیم کو بہتر نہ کر لے۔جر منی کی یہ مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں پر سارے کے سارےتعلیی ادارے جرمن حکومت کے انڈر ہیں اور وہاں پر کسی قسم کی کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ضروت اس امر کی ہے کہ اساتذہ اکٹھے ہوں کر مطالبہ کریں تاکہ ان کی حق تلفی نہ ہو۔
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔