
حکومت پنجاب نے ایسےتمام سکولوں کو پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن کے نتائج ناقص ہیں یا ان میں تعداد کم ہے۔
حکومت پنجاب کا موقف ہے کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کام نہیں کرتے اور بچوں کہ نہیں پڑھاتے جس سے نتا ئج ناقص آتے ہیں ۔اس لیے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے سکولوں کو پرائیوٹ کر دیا جا ئے۔
آئیے ایک نظر نتائج پر ڈالتے ہیں۔
2015
پنجم جماعت کے کامیاب طلباءوطالبات۔۔۔۔۔۔۔۔٪۔79
ہشتم جماعت کے کامیاب طلباءوطا لبات۔۔۔۔۔۔۔79.11
2014
پنجم جماعت کے کامیاب طلباء طا لبات۔۔۔۔۔55.95
ہشتم جماعت کے کامیاب طلباءوطا لبات76.83
یہ نتائج اتنے بھی برے نہیں کہ جس کو بنیاد بنا کر محکمہ تعلیم کو نجی ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔
ااس کے بر عکس اگر حکومت کی اپنی کارکردگی جائزہ لیا جا ئے تو اس کے حالات نتہائی تشویش ناک ہیں۔
.ذرا اک نظر خود ڈالیئے اور فیصلہ کیجئے

آئیے دیکھتے ہیں ک نجکاری کا عمل کس نے اور کب شروع کیا۔
کیا آپ جانئے ہیں کہ پاکستان کے اثاثے بیچنے کی بنیاد کس نے رکھی؟
جی ہاں! یہ کوئی اور نہیں ہمارے وزیراظم نواز شریف نے بنیا د رکھی۔ یقین نہ آئے تو خود پڑھ لیجئے۔

wikipdia
سوچنے کی بات تو یہ ہےکہ کہیں یہ نجکاری اپنے خاص لوگوں کو نوازنے کےلیے تو نہیں کی جارہی؟
پچھلےتقریباََ 12 سال سے جناب شہباز شریف صوبہ پنجاب کی خدمت کر رہے ہیں۔ نا تو پنجاب کے اساتذہ کو کوئی مرعات دی گئی بلکہ اساتذہ کو ان کے حقوق بھی نہیں دئے گئے۔
ائئے ایک نظر صرف 3 سالہ خیپر پختوں پر ڈالتے ہیں۔

96% انرولمنٹ میں اضافہ
Reference
تو آپ کے خیال میں اساتذہ اس کے ذمے دار ہیں یا حکومت؟
2 تبصرے:
untill we not unite, these all tactics are useless. these sharif brothers realy snatch the rights of poor employees and struggling to earn more through their own privatize organization through a legal way. nation builder wake up, now time is up. please for GOD sake do'nt wait for a miracle. Mughlya khandan sy haqooq ki azadi ki jang laro................
That's true... Teachers should be united. At least they should realize that who is their enemy. Teachers joints efforts will surely be fruitful.
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔